اہل ذوق! جیسا کہ میں نے پچھلی بار ذکر کیا تھا کہ کویت کی مٹھائیوں کا اپنا ہی ایک الگ رنگ اور انداز ہے، بالکل ویسے جیسے ان کی ثقافت میں مہمان نوازی کا حسن بکھرا ہوا ہے۔ میں جب بھی کویت کے ان میٹھے پکوانوں کو چکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر نوالے میں صدیوں پرانی روایات اور ذائقے کا ایک منفرد امتزاج گھلا ہوا ہے۔ یہ صرف مٹھائیاں نہیں، بلکہ یہ کویت کی روح ہیں جو ہر خوشی اور ہر دعوت میں چار چاند لگا دیتی ہیں۔ آج ہم کویت کی کچھ ایسی ہی خاص مٹھائیوں کے بارے میں تفصیل سے بات کریں گے، جن کا ذائقہ آپ کے دل کو چھو لے گا اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو بھی میری طرح ان سے پیار ہو جائے گا۔
زعفران اور الائچی کی خوشبو میں بسا “قرص عقیلی” کا ذائقہ

کیا آپ نے کبھی ایسی کیک چکھا ہے جو ہر نوالے میں خوشبوؤں کی بارش کر دے؟ قرص عقیلی کویت کی ایک ایسی ہی روایتی کیک ہے جو مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہے۔ اس کی ہر پرت میں زعفران، الائچی اور گلاب کے پانی کی اتنی نفاست سے خوشبو سموئی جاتی ہے کہ بس پوچھیں مت!
اس کی تیاری میں خاص انڈے، میدہ اور چینی کا استعمال ہوتا ہے، اور پھر اسے تل کے بیجوں سے سجا کر بیک کیا جاتا ہے۔ میں نے ایک بار ایک پرانی کویتی بیکری سے اسے خریدا تھا، اس کی نرمی اور منفرد ذائقے نے مجھے حیران کر دیا تھا۔ اس کی مہک اتنی دلکش تھی کہ گاڑی میں بیٹھتے ہی چاروں طرف پھیل گئی اور میرا پورا دن خوشگوار گزر گیا۔ یہ کیک نہ صرف خاص مواقع اور عیدوں پر پیش کیا جاتا ہے بلکہ عام دنوں میں بھی چائے کے ساتھ اس کا لطف اٹھایا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ کویت کے لوگ اپنی روایات کو کتنی خوبصورتی سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔
کیک کی تیاری کے خاص نکات
- زعفران اور الائچی کا متوازن استعمال اس کیک کی جان ہے، جو اسے ایک منفرد ذائقہ اور مہک دیتا ہے۔
- کیک کو بیک کرتے وقت درجہ حرارت کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے تاکہ یہ اندر سے نرم اور باہر سے سنہری ہو۔
- تل کے بیجوں کی تہہ اسے ایک خستہ پن دیتی ہے، جو اس کے ذائقے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
لقیمات: شیرے میں ڈوبی ہوئی خستہ گولیاں
جیسے ہی رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے، مجھے سب سے پہلے لقیمات یاد آتے ہیں۔ یہ کویت میں، بلکہ پورے خلیج میں، بہت مشہور ہیں۔ یہ میدے سے بنی چھوٹی چھوٹی گولیاں ہوتی ہیں جنہیں گہرے تیل میں فرائی کیا جاتا ہے اور پھر گرم شیرے میں ڈبو دیا جاتا ہے۔ یقین مانیں، ان کا باہر سے خستہ اور اندر سے نرم گودا، شیرے کی مٹھاس کے ساتھ، منہ میں جاتے ہی گھل جاتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے، پہلی بار جب میں نے کویت میں لقیمات چکھے تھے، تو ایسا لگا جیسے کسی نے چینی اور خوشبو کا جادو کر دیا ہو۔ میں نے خود ان کی کئی ترکیبیں آزمائیں ہیں اور ہر بار یہی محسوس کیا کہ ان کی سادگی ہی ان کی خوبصورتی ہے۔ انہیں اکثر لوگ شام کی چائے کے ساتھ یا مہمانوں کی تواضع کے لیے پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی میٹھی ڈش ہے جو ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول ہے۔
لقیمات کو اور مزیدار بنانے کے طریقے
- شیرے میں الائچی یا زعفران کی چند پٹیاں شامل کرنے سے ذائقہ مزید نکھر جاتا ہے۔
- فرائی کرنے سے پہلے آٹے کو اچھی طرح خمیر ہونے دیں تاکہ گولیاں خوب پھولیں اور خستہ بنیں۔
- پیش کرتے وقت اوپر سے پستہ یا تل چھڑکنے سے خوبصورتی اور ذائقہ دونوں بڑھ جاتے ہیں۔
صب القفشة: کویت کا منفرد میٹھا
اگر آپ لقیمات سے واقف ہیں، تو صب القفشة کو بھی ضرور پسند کریں گے۔ یہ بھی لقیمات جیسی ہی فرائی شدہ میٹھی گولیاں ہوتی ہیں، لیکن ان کی ترکیب میں ایک خاص کویتی انداز شامل ہوتا ہے جو انہیں منفرد بناتا ہے۔ اس میں میدے کے ساتھ بعض اوقات چنے کا آٹا بھی استعمال ہوتا ہے جو اسے ایک الگ ساخت دیتا ہے۔ ہری الائچی اور زعفران اس کی بنیادی خوشبوئیں ہیں۔ مجھے ایک بار کویت کی ایک پرانی حویلی میں افطار کے دوران صب القفشة کھانے کا موقع ملا تھا۔ وہ ذائقہ آج بھی میری زبان پر ہے۔ اس کی گولیاں اتنی ہلکی اور خوشبودار تھیں کہ میں نے اپنی پلیٹ میں کئی بار اضافہ کیا تھا۔ یہ کویت کی مہمان نوازی اور کھانے کے تئیں ان کی محبت کی عمدہ مثال ہے۔
صب القفشة کی خاصیت
- اسے بنانے میں استعمال ہونے والی خاص چمچ (قفشة) کی وجہ سے اسے یہ نام ملا ہے۔
- اس کا آٹا تھوڑا پتلا ہوتا ہے تاکہ گولیاں فرائی ہونے کے بعد اندر سے بالکل نرم ہوں۔
- تازہ پسی ہوئی الائچی اور زعفران اس کی خوشبو کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔
بلالیط: میٹھا اور نمکین ذائقوں کا حسین امتزاج
بلالیط ایک ایسا پکوان ہے جو صبح کے ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک، ہر وقت پسند کیا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر سویاں ہیں جو زعفران، الائچی اور چینی کے ساتھ پکائی جاتی ہیں، اور اکثر اس پر آملیٹ یا فرائیڈ انڈا رکھ کر پیش کیا جاتا ہے۔ پہلی بار جب میں نے اسے چکھا تھا تو میں حیران رہ گیا تھا کہ سویوں اور انڈے کا یہ امتزاج کتنا لذیذ ہو سکتا ہے۔ اس میں میٹھے اور نمکین ذائقے کا ایک ایسا توازن ہوتا ہے جو کسی بھی ذائقے دار کو بھا جاتا ہے۔ میں نے کئی بار اسے گھر پر بنانے کی کوشش کی ہے، اور ہر بار اس کے منفرد ذائقے نے مجھے متاثر کیا ہے۔ یہ پکوان خاص طور پر سردیوں میں بہت مقبول ہے کیونکہ یہ جسم کو گرمائش بخشتا ہے۔
بلالیط کی ورائٹیز
- بعض اوقات اسے صرف میٹھے انداز میں بنایا جاتا ہے جبکہ کچھ لوگ اسے انڈے کے ساتھ نمکین طریقے سے بھی پسند کرتے ہیں۔
- سویاں کو پہلے ہلکا سا بھون لیا جاتا ہے تاکہ ان میں ایک خستہ پن آ جائے۔
- زعفران اور الائچی کا استعمال نہ صرف خوشبو بڑھاتا ہے بلکہ اسے ایک خوبصورت سنہری رنگ بھی دیتا ہے۔
دملوج اور درابیل: کویت کی خستہ اور خوشبودار مٹھائیاں
کویت میں میٹھوں کی فہرست دملوج اور درابیل کے بغیر نامکمل ہے۔ دملوج ایک خوشبودار اور بھرپور میٹھا ہے جس میں اکثر خشک میوے اور مختلف خوشبوئیں شامل ہوتی ہیں۔ مجھے دملوج کا منفرد ذائقہ بہت پسند آیا تھا جب میں نے اسے ایک مقامی بازار سے خریدا۔ اس کی نرم ساخت اور میٹھے مصالحوں کا امتزاج اسے واقعی خاص بناتا ہے۔ دوسری طرف، درابیل بہت پتلی، کرسپی کریس کی طرح ہوتی ہیں جو ہری الائچی اور زعفران کی مہک سے لیس ہوتی ہیں۔ ان کا ہر رول کمال کی نفاست سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہیں جیسے کسی ماہر نے فنکاری سے میٹھا بنایا ہو۔ میں نے انہیں پہلی بار ایک کویتی قہوہ کے ساتھ چکھا تھا، اور ان کی خستگی اور ہلکی مٹھاس نے میرا دل جیت لیا تھا۔ یہ ایک بہترین میٹھے اسنیک ہیں جو چائے یا کافی کے ساتھ بہت اچھے لگتے ہیں۔
درابیل کی اقسام اور بناوٹ

- درابیل بعض اوقات سادہ ہوتی ہیں جبکہ کچھ میں نخالہ (بھوسی) شامل کی جاتی ہے جو انہیں ایک صحت بخش موڑ دیتی ہے۔
- ان کی خستہ پن برقرار رکھنے کے لیے انہیں خاص طریقے سے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔
- گلاب کا پانی یا کیوڑہ بھی بعض اوقات ان کی خوشبو بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
کویت کے روایتی حلوے اور ان کی شیریں تاریخ
کویت میں حلوے کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے، اور یہ کسی بھی تہوار یا دعوت کی جان ہوتے ہیں۔ کویتی حلوے عام طور پر میدے، چینی، تیل، زعفران اور الائچی سے تیار کیے جاتے ہیں۔ بعض حلوے کھجور اور خشک میووں سے بھی بنائے جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے، ایک بار میں کویت کے ایک روایتی حلوائی کی دکان پر گیا تھا جہاں انہوں نے مجھے گرم گرم حلوہ چکھایا۔ اس کی مٹھاس اور ذائقہ اتنا دلنشین تھا کہ میں آج بھی اسے یاد کرتا ہوں۔ کویتی حلوے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کویت کی تاریخ، اور یہ نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ یہ صرف میٹھا نہیں بلکہ خلیجی مہمان نوازی کا حصہ ہے۔
حلوے کی منفرد پہچان
- زعفران اور الائچی کی بھرپور خوشبو کویتی حلوے کو ایک خاص پہچان دیتی ہے۔
- کچھ حلوے ناریل یا خشک میووں کے ساتھ تیار کیے جاتے ہیں جو ان کے ذائقے میں اضافہ کرتے ہیں۔
- انہیں اکثر قہوے یا چائے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، جو اسے ایک بہترین تجربہ بناتا ہے۔
رہش اور عصیدہ: ذائقے میں لاجواب، روایت میں بے مثال
رہش، جسے ہم عام طور پر حلوہ طحینہ بھی کہہ سکتے ہیں، کویت میں بہت مقبول ہے۔ یہ تل کے پیسٹ (طحینہ)، چینی اور حلوہ روٹ سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کی بناوٹ کچھ دانے دار ہوتی ہے۔ اس کا ذائقہ اتنا منفرد ہوتا ہے کہ ایک بار چکھ لیں تو بھولنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مجھے رہش کا وہ مزہ آج بھی یاد ہے جب میں نے اسے پہلی بار چکھا تھا، اس کی مٹھاس میں ایک خاص گہرائی تھی۔ یہ بچوں اور بڑوں دونوں میں پسند کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف، عصیدہ ایک سادہ لیکن لذیذ میٹھا ہے جو گندم کے آٹے، گھی اور چینی سے تیار ہوتا ہے۔ اسے اکثر گرم گرم پیش کیا جاتا ہے اور اس کی سادگی ہی اس کی خوبصورتی ہے۔ عصیدہ کا ہلکا اور تسلی بخش ذائقہ مجھے ایک پرانی یادوں کی گلی میں لے جاتا ہے، جہاں پرانے وقتوں کی سادگی اور خالص ذائقے کی بات ہوتی تھی۔ یہ دونوں مٹھائیاں کویت کے کھانوں کی ایک اہم حصہ ہیں۔
کویت کی چند مشہور مٹھائیاں
| مٹھائی کا نام | اہم اجزاء | خاصیت | پیشکش کا انداز |
|---|---|---|---|
| قرص عقیلی | میدہ، انڈے، چینی، زعفران، الائچی، تل | خوشبودار، نرم کیک | چائے کے ساتھ یا مہمان نوازی میں |
| لقیمات | میدہ، خمیر، چینی کا شربت | بیرونی خستہ، اندرونی نرم گولیاں | رمضان میں افطار یا شام کے سنیکس |
| صب القفشة | میدہ، چنے کا آٹا، انڈے، زعفران، الائچی، شربت | لقیمات سے مشابہ، منفرد خوشبو | خاص مواقع یا رمضان کی دعوتیں |
| بلالیط | سویاں، چینی، زعفران، الائچی، انڈا | میٹھا اور نمکین امتزاج | صبح کا ناشتہ یا میٹھے کے طور پر |
ان تمام مٹھائیوں کا ذکر کرتے ہوئے مجھے کویت کی ثقافت اور وہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی یاد آ رہی ہے۔ یہ مٹھائیاں صرف ذائقہ ہی نہیں بلکہ روایت اور محبت بھی لیے ہوتی ہیں۔
글을 마치며
اہل ذوق! کویتی مٹھائیوں کے اس سفر میں مجھے بے حد لطف آیا۔ قرص عقیلی کا منفرد ذائقہ، لقیمات کی خستگی، یا بلالیط میں میٹھے اور نمکین کا بہترین امتزاج، یہ سب سوچ کر ہی میرے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ یہ محض مٹھائیاں نہیں، بلکہ یہ کویت کے بھرپور ورثے کا ایک لازمی حصہ ہیں، جو ان کی فیاضی اور روایات سے گہری محبت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہر نوالہ مہمان نوازی اور ثقافت کی ایک کہانی سناتا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ یہ سب پڑھنے کے بعد، آپ بھی ان شاندار ذائقوں کو آزمانے کے لیے پرجوش ہوں گے، چاہے آپ کویت کا دورہ کریں یا انہیں اپنی باورچی خانے میں تیار کرنے کی کوشش کریں۔ میرا یقین کریں، یہ ایک ایسا تجربہ ہے جسے آپ کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے!
کویتی مٹھائیوں کی اس دنیا میں ہر ذائقہ ایک نئی کہانی سناتا ہے، اور میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ان کی سادگی ہی ان کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔
알اھدھ면 쓸모 있는 정보
جو لوگ کویتی مٹھائیوں کا حقیقی لطف اٹھانا چاہتے ہیں، ان کے لیے میری اپنی تجربات اور مشاہدات پر مبنی چند کارآمد تجاویز یہاں پیش کی جا رہی ہیں:
-
تازہ ترین اور بہترین ذائقے کے لیے: جب بھی ممکن ہو، مقامی بیکریوں یا مشہور حلوائی کی دکانوں سے مٹھائیاں خریدیں۔ ان کی تازگی اور اصلی ذائقہ کہیں اور نہیں ملے گا۔ میں نے خود کئی بار دیکھا ہے کہ چھوٹی دکانوں پر بھی غیر معمولی مٹھائیاں دستیاب ہوتی ہیں جو بڑے برانڈز سے کہیں بہتر ہوتی ہیں۔
-
چائے یا قہوے کے ساتھ لطف اٹھائیں: کویت میں زیادہ تر مٹھائیاں شام کی چائے (شائے) یا روایتی کویتی قہوے کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں۔ یہ ان کے ذائقے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر قرص عقیلی اور قہوے کا امتزاج بہت پسند ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جو صرف کویت میں ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
-
رمضان میں خاص اہتمام: اگر آپ رمضان کے مہینے میں کویت جائیں تو افطار کے دسترخوان پر لقیمات اور صب القفشة جیسی مٹھائیاں ضرور چکھیں۔ یہ اس وقت کی خاص سوغات ہیں۔ ان کا مزہ اس پاکیزہ مہینے میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ کئی بار افطار کے بعد میں نے ان کا لطف اٹھایا ہے اور یہ تجربہ ہمیشہ یادگار رہا ہے۔
-
تحفے کے طور پر بہترین انتخاب: جب آپ کسی کویتی گھر جائیں، تو ساتھ میں قرص عقیلی یا حلوے کا ایک ڈبہ لے جانا ایک اچھا اشارہ سمجھا جاتا ہے، جو آپ کی مہمان نوازی اور محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک طرح سے آپ کی طرف سے عزت کا اظہار ہوتا ہے جو مقامی لوگوں کو بہت اچھا لگتا ہے۔
-
گھر پر بنانے کی کوشش کریں: اگر آپ کویت نہیں جا سکتے تو ان میں سے کچھ مٹھائیاں جیسے لقیمات یا بلالیط کی ترکیبیں آن لائن تلاش کریں اور گھر پر خود بنائیں۔ آپ کو یقیناً بہت مزہ آئے گا۔ میں نے خود بلالیط کئی بار گھر پر بنائی ہے اور یہ ہمیشہ ہی میرے گھر والوں کی پسندیدہ رہی ہے۔ یہ نہ صرف ایک مزیدار سرگرمی ہے بلکہ کویتی ثقافت کو سمجھنے کا بھی ایک بہترین طریقہ ہے۔
اہم نکات کا خلاصہ
کویتی مٹھائیوں کے بارے میں ہماری اس گفتگو کا اہم خلاصہ یہ ہے کہ یہ صرف میٹھے پکوان نہیں بلکہ کویتی ثقافت اور مہمان نوازی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کا ہر ذائقہ صدیوں پرانی روایات اور ذوق کو ظاہر کرتا ہے۔ زعفران، الائچی اور گلاب کا پانی ان کے اہم اجزاء ہیں جو انہیں ایک منفرد خوشبو اور ذائقہ عطا کرتے ہیں۔ میری رائے میں، ان مٹھائیوں میں کویت کے لوگوں کی مہمان نوازی اور کھانے سے محبت صاف جھلکتی ہے۔ خاص مواقع ہوں یا عام دن، یہ مٹھائیاں ہمیشہ دسترخوان کی رونق بڑھاتی ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ کویت کی ہر مٹھائی اپنی ایک کہانی اور اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ انہیں چکھ کر آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ کویت کی گہری ثقافت اور وہاں کی گرم جوشی کا حصہ بن گئے ہوں۔ یہ واقعی ایک ایسا تجربہ ہے جسے کوئی بھی فوڈ بلاگر یا سفر کا شوقین شخص بھلا نہیں سکتا۔ ان مٹھائیوں کی تیاری میں مہارت اور محبت شامل ہوتی ہے، جو انہیں دنیا بھر کی دیگر مٹھائیوں سے ممتاز کرتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
اہل ذوق! کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کویت کے صحرائی حسن میں چھپی مٹھائیوں کا ذائقہ کیسا ہوگا؟ مجھے یقین ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے علاقے کی روایتی مٹھائیوں کو بہترین سمجھتا ہے، اور مان لیجیے، میں بھی انہی میں سے ایک ہوں۔ لیکن پچھلے دنوں جب مجھے کویت کے چند خاص میٹھے پکوانوں کو چکھنے کا موقع ملا تو میں تو بس ان کا دیوانہ ہی ہو گیا۔ میں نے خود محسوس کیا کہ ان کی ترکیبوں میں سادگی کے باوجود ایک ایسا جادو ہے جو روح کو سرشار کر دیتا ہے۔ آج کل جہاں دنیا بھر میں میٹھے پکوانوں میں نئے تجربات ہو رہے ہیں، وہیں کویت کے روایتی حلوے اور دیگر مٹھائیاں اپنی اصلیت اور منفرد ذائقے کی وجہ سے خاص پہچان رکھتی ہیں۔ جدید دور میں کچھ شیف ان پر نئے رنگ بھی چڑھا رہے ہیں، لیکن ان کی بنیاد وہی صدیوں پرانی روایتوں پر قائم ہے۔ یہ محض میٹھے نہیں، بلکہ کویت کی ثقافت اور مہمان نوازی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ میری تحقیق اور ذاتی تجربے سے یہی معلوم ہوا کہ کویت کے یہ میٹھے پکوان نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہیں بلکہ ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء بھی صحت بخش ہوتے ہیں۔ یہ ہر دعوت، ہر تقریب کی جان ہوتے ہیں اور میرے خیال میں ہر فوڈ لور کو ایک بار ضرور انہیں آزمانا چاہیے۔ آئیے، اس سے متعلق تمام دلچسپ تفصیلات کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔سوال 1: کویت کی سب سے مشہور روایتی مٹھائیاں کون سی ہیں جو ہر سیاح کو ضرور چکھنی چاہئیں، اور انہیں کیا چیز منفرد بناتی ہے؟جواب 1:
ارے واہ!
یہ تو میرا سب سے پسندیدہ سوال ہے! جب میں نے پہلی بار کویت کا دورہ کیا تو میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ آخر یہاں کی وہ کون سی مٹھائیاں ہیں جو دل کو چھو لیں۔ میرے ذاتی تجربے کے مطابق، چند ایسی مٹھائیاں ہیں جن کا ذائقہ اور ان کی کہانی آپ کو کہیں اور نہیں ملے گی۔ سب سے پہلے، “گرس عقیلی” (Gers Ogaily) کا ذکر کرنا چاہوں گی۔ یہ ایک روایتی اسپنج کیک ہے جو کھجوروں، الائچی، زعفران اور کالے تل سے تیار کیا جاتا ہے۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا، اس کا ایک ٹکڑا کھاتے ہی آپ کو محسوس ہوگا جیسے وقت تھم سا گیا ہو اور آپ کویت کے کسی پرانے گھر کی میٹھی خوشبو میں کھو گئے ہوں۔ مجھے یاد ہے، ایک مقامی فیملی نے مجھے خود اپنے ہاتھوں سے بنا ہوا گرس عقیلی پیش کیا تھا، اس کی نرمی اور زعفران کی خوشبو، جسے انہوں نے چائے کے ساتھ پیش کیا تھا، وہ لمحہ آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔دوسری مٹھائی “حلوہ” (Halwa) ہے، مگر کویتی انداز میں!
یہ ہمارے برصغیر کے حلوے سے بالکل مختلف ہے۔ یہ مکئی کے آٹے، چینی، زعفران، گھی اور گلاب کے عرق سے بنی جیلی جیسی مٹھائی ہوتی ہے۔ اس کی بناوٹ اتنی دلچسپ ہوتی ہے کہ منہ میں رکھتے ہی گھل جاتی ہے اور زعفران کا ذائقہ آپ کی روح تک اتر جاتا ہے۔ میں نے ایک بار سوق المباریہ (Souq Al-Mubarakiya) کے ایک پرانے حلوائی کی دکان سے تازہ حلوہ خریدا تھا، اس کا ذائقہ اتنا خالص تھا کہ مجھے لگا جیسے میں صدیوں پرانے کویت کے بازاروں میں کھڑی ہوں۔اور ہاں، “لقیمات” (Luqaimat) کو کیسے بھول سکتے ہیں!
یہ چھوٹے، گول، سنہرے تلے ہوئے گلگلے ہوتے ہیں جو باہر سے کرارے اور اندر سے نرم ہوتے ہیں، جنہیں شیرے یا شہد میں ڈبو کر تل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ میں نے تو انہیں کئی بار شام کی چائے کے ساتھ کھایا ہے، اور ہر بار ان کی تازگی اور میٹھاس ایک نئی توانائی بخش دیتی ہے۔ خاص طور پر رمضان میں تو یہ ہر گھر کی زینت ہوتے ہیں۔ ان کی سادگی میں ایک خاص ذائقہ ہے جو آپ کو بار بار انہیں چکھنے پر مجبور کرے گا!
ان تمام مٹھائیوں میں کویت کی مہمان نوازی اور روایتی اجزاء کا جادو چھپا ہے۔سوال 2: کویتی مٹھائیاں مقامی ثقافت اور مہمان نوازی کی کس طرح عکاسی کرتی ہیں، اور انہیں کن خاص مواقع پر پیش کیا جاتا ہے؟جواب 2:
کویتی مٹھائیاں صرف ذائقے کی حد تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ کویت کی دلیری، سخاوت اور بھرپور ثقافت کا آئینہ ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار کویت میں ایک “دیوانیہ” (Diwaniya) میں گئی تھی، وہاں خوشبودار عربی قہوے کے ساتھ طرح طرح کی مٹھائیاں پیش کی گئیں۔ یہ ان کی مہمان نوازی کا حصہ ہے، جہاں مہمانوں کو سب سے بہترین چیزوں سے نوازا جاتا ہے۔ یہ روایت صدیوں پرانی ہے اور آج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ مٹھائیوں میں استعمال ہونے والے اجزاء جیسے زعفران، الائچی، گلاب کا عرق اور کھجوریں صرف ذائقے کو بہتر نہیں بناتیں، بلکہ یہ ان کے خطے کی پیداوار ہیں اور ان کی تہذیب و تمدن سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔خاص مواقع پر تو مٹھائیاں گویا زندگی کا لازمی حصہ بن جاتی ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقع پر تو ہر گھر میں انواع و اقسام کی مٹھائیاں تیار ہوتی ہیں اور رشتہ داروں اور دوست احباب میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ کلیچہ (Kleicha) جیسی کوکیز عید اور شادی بیاہ کی تقریبات میں خاص طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ شادیوں اور دیگر خاندانی تقریبات میں بھی مٹھائیوں کے بغیر دعوت ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ یہ خوشی کے اظہار کا ایک خوبصورت طریقہ ہے۔ میرے خیال میں، جب بھی کویتی آپ کو مٹھائی پیش کرتے ہیں، تو وہ صرف ایک میٹھی چیز نہیں دیتے، بلکہ وہ آپ کے ساتھ اپنی خوشیاں، اپنی روایات اور اپنی محبت بانٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہ ان کے رشتوں میں میٹھاس بھرنے کا ایک حسین ذریعہ ہے۔سوال 3: جو لوگ بیکنگ کا شوق رکھتے ہیں، کیا ان کے لیے کوئی ایسی روایتی کویتی مٹھائی ہے جسے گھر پر آسانی سے بنایا جا سکے، اور اس کے لیے آپ کی طرف سے کیا مفید مشورے ہوں گے؟جواب 3:
یقیناً!
میرا خود بھی بیکنگ سے پرانا تعلق ہے، اور میں نے اپنے بلاگ پر بہت سی روایتی ترکیبیں شیئر کی ہیں۔ کویت کی کئی مٹھائیاں ایسی ہیں جنہیں آپ گھر پر باآسانی بنا سکتے ہیں اور اپنے گھر والوں کو حیران کر سکتے ہیں۔ میری نظر میں، “البہ” (Elba) یا کویتی دودھ کا کھیر ایک بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔ یہ زعفران سے بھری ہوئی دودھ کی کھیر ہے جو بنانے میں نسبتاً آسان ہے اور ذائقہ میں لاجواب۔ میں نے اسے خود کئی بار بنایا ہے، اور ہر بار اس کی خوشبو سے سارا گھر مہک اٹھتا ہے۔اسے بنانے کے لیے آپ کو انڈے، دودھ، کنڈینسڈ ملک، گاڑھی کریم، زعفران اور الائچی کا پاؤڈر چاہیے ہوگا۔ ترکیب بہت سادہ ہے: سارے اجزاء کو اچھی طرح مکس کریں، چھان لیں، پھر اسے بیکنگ پین میں ڈال کر سٹیم یا پانی کے حمام میں پکائیں۔ ٹھنڈا ہونے پر اسے فریج میں رکھیں اور پھر ٹھنڈا ٹھنڈا پیش کریں!
میرے کچھ ذاتی مشورے:
* زعفران کی کوالٹی: زعفران جتنا اچھا ہوگا، البہ کا ذائقہ اور رنگ اتنا ہی شاندار آئے گا۔ یہ اس کا سب سے اہم جزو ہے! * احتیاط سے مکس کریں: انڈے اور دودھ کے مکسچر کو زیادہ نہیں پھینٹنا، بس اچھی طرح مکس کر کے چھان لینا ہے تاکہ کوئی گٹھلی نہ رہے۔
* آہستہ پکائیں: اسے ہلکی آنچ پر یا سٹیم پر صبر سے پکانا ہے تاکہ یہ اچھی طرح جم جائے اور اس کی بناوٹ ملائم بنے۔ جلدی کرنے سے کھیر صحیح نہیں بنے گی۔
* ٹھنڈا سرو کریں: البہ کا اصل مزہ تب ہی آتا ہے جب یہ خوب ٹھنڈی ہو جائے، تو کم از کم 2-3 گھنٹے فریج میں رکھنا نہ بھولیں۔آپ یقین مانیں، جب آپ خود یہ مٹھائی بنائیں گے اور آپ کے گھر والے اس کی تعریف کریں گے، تو آپ کو بہت خوشی محسوس ہوگی!
یہ ایسا میٹھا ہے جو بنانے والے اور کھانے والے دونوں کو دلی سکون دیتا ہے۔






