کویت کے تہواروں کے لاجواب کھانے: آپ کی دعوت کو ناقابل فراموش بنانے کے آسان طریقے

webmaster

쿠웨이트 명절 음식 - **Festive Kuwaiti Machboos Feast**
    An intricately detailed image capturing a joyful Kuwaiti fami...

کویت میں چھٹیوں کا مزہ، جی ہاں، تہواروں اور خاص موقعوں پر کھانے پینے کا اپنا ہی ایک الگ رنگ ہوتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کویتی گھرانوں میں جب کوئی تہوار آتا ہے، تو کچن کی رونق ہی دوبالا ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کھانے کی خوشبو سے سارا شہر مہک اٹھا ہو۔ یہ صرف کھانے نہیں ہوتے، بلکہ یہ رشتوں کو جوڑنے، خوشیاں بانٹنے اور ثقافت کو زندہ رکھنے کا ایک حسین ذریعہ ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے، ایک بار میں ایک کویتی خاندان کے ساتھ عید منا رہا تھا، تو ان کی مچبوس اور حریس کا ذائقہ آج بھی میری زبان پر ہے۔ ان کھانوں میں صرف اجزاء نہیں، محبت اور روایت کا لمس بھی شامل ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کیسے ہمارے پیارے اپنے ہاتھوں سے ایسے کھانے بناتے ہیں جو ہماری روح کو بھی سیراب کر دیتے ہیں۔ آج بھی کویت میں نئے رجحانات کے باوجود، ان روایتی کھانوں کی اہمیت برقرار ہے اور ان کا منفرد انداز ہر دعوت کو چار چاند لگا دیتا ہے۔آئیے، نیچے دی گئی تحریر میں کویت کے ان شاندار تہواری کھانوں کے بارے میں مزید تفصیلات جانتے ہیں۔

خوشبوؤں سے مہکتے تہوار، ذائقوں کی ایک دنیا

쿠웨이트 명절 음식 - **Festive Kuwaiti Machboos Feast**
    An intricately detailed image capturing a joyful Kuwaiti fami...

کویتی مچبوس: ہر دعوت کی شان

جیریش اور ہریس: روح کو سیراب کرنے والے پکوان

کویت میں تہواروں کا ذکر ہو اور کھانے کی بات نہ ہو، ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔ میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے کہ یہاں کے لوگ کھانوں سے صرف پیٹ نہیں بھرتے بلکہ دلوں کو بھی جوڑتے ہیں۔ جب بھی کوئی خاص موقع آتا ہے، جیسے عید یا کوئی خاندانی اجتماع، تو کویتی مچبوس کی خوشبو پورے گھر کو معطر کر دیتی ہے۔ یہ صرف چاول اور گوشت کا پکوان نہیں، بلکہ یہ پیار، تاریخ اور روایت کا امتزاج ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے گھر کی بڑی بوڑھیاں کئی گھنٹے لگا کر مچبوس بناتی ہیں، اور ان کے ہاتھوں میں وہ جادو ہوتا ہے کہ اس کا ذائقہ عمر بھر نہیں بھولتا۔ خاص طور پر جب یہ تازہ لیموں اور مزیدار چٹنی کے ساتھ پیش کیا جائے تو اس کی لذت دوبالا ہو جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میرے ایک کویتی دوست کی والدہ نے مجھے اپنے ہاتھوں سے بنی ہوئی جیریش اور ہریس کھلائی تھی۔ اس کا مزہ، اس کی نرمی اور اس میں استعمال ہونے والے اجزاء کی تازگی آج بھی مجھے یاد ہے۔ یہ وہ پکوان ہیں جو صرف کھانے نہیں ہوتے، بلکہ یہ کویت کی ثقافت کا ایک خوبصورت حصہ ہیں جو آنے والی نسلوں کو بھی اپنے ورثے سے جوڑے رکھتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ پکوان صرف تہواروں کی رونق نہیں بڑھاتے بلکہ ہمارے اندر ایک اپنائیت کا احساس بھی جگاتے ہیں۔

میٹھی سوغاتیں: روایت اور جدت کا حسین امتزاج

Advertisement

لقیمات اور بلالیط: ہر محفل کی مٹھاس

عصیدہ اور سگو: منفرد میٹھے پکوان

کویتی دسترخوان پر میٹھی سوغاتوں کا اپنا ہی مقام ہے۔ میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کی میٹھی اشیاء سے محبت بہت گہری ہے۔ لقیمات، جو کہ ایک قسم کے میٹھے اور کرکرے گولے ہوتے ہیں، شربت میں ڈبو کر پیش کیے جاتے ہیں، ان کی بات ہی کچھ اور ہے۔ یہ اتنے لذیذ ہوتے ہیں کہ آپ انہیں ایک بار چکھ لیں تو بار بار کھانے کا دل کرے گا۔ میں نے خود کئی بار انہیں گھر پر بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن جو ذائقہ کویتی خواتین کے ہاتھوں میں ہوتا ہے، وہ کہیں اور نہیں ملتا۔ اس کے ساتھ ہی بلالیط، جو کہ باریک سویوں سے بنا ایک میٹھا پکوان ہے اور اکثر صبح کے ناشتے میں بھی کھایا جاتا ہے، اس کی ایک منفرد خوشبو اور ذائقہ ہوتا ہے۔ یہ پکوان صرف میٹھے نہیں ہوتے بلکہ یہ خوشیوں اور احتفال کا اظہار بھی ہیں۔ عصیدہ اور سگو جیسے روایتی میٹھے پکوان بھی ہیں جو خاص طور پر سردیوں میں یا خاص تقریبات میں بنائے جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے سگو کا ذائقہ چکھا تھا، اس کی گرمی اور میٹھا پن اس قدر دلکش تھا کہ فوراً دوبارہ کھانے کا دل چاہا۔ کویت میں اب جدید بیکریاں اور کیک شاپس بھی بہت ہیں، لیکن روایتی میٹھی چیزوں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ یہ وہ میٹھے ہیں جو صدیوں سے کویت کی روایت کا حصہ ہیں اور آج بھی اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں۔

سمندری خزانوں کا ذائقہ: کویتی دسترخوان کی رونق

سیمیچ اور هامور: ہر خاص موقع پر

تہواری مچھلی کے پکوان: تنوع اور تازگی

کويت خلیج فارس کے کنارے واقع ہے، تو یہاں کے کھانوں میں سمندری خزانوں کا استعمال بہت عام ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب کوئی بڑا تہوار یا خاندانی اجتماع ہوتا ہے تو مچھلی کے کئی طرح کے پکوان لازمی ہوتے ہیں۔ سیمیچ اور هامور جیسی مچھلیاں بہت مقبول ہیں اور انہیں مختلف طریقوں سے پکایا جاتا ہے۔ کبھی انہیں گرل کیا جاتا ہے، کبھی فرائی کیا جاتا ہے اور کبھی مصالحے لگا کر بیک کیا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ایک کویتی شادی کی دعوت میں، میں نے گرل کی ہوئی هامور مچھلی کھائی تھی جس کا ذائقہ آج بھی میری زبان پر ہے۔ اس کی تازگی اور اس میں استعمال ہونے والے مصالحوں کا امتزاج واقعی لاجواب تھا۔ یہ مچھلیاں صرف پروٹین کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ یہ کویتی کھانوں کی ایک پہچان بھی ہیں۔ یہ پکوان کویت کی سمندری روایت کو زندہ رکھتے ہیں اور دسترخوان پر ایک خاص رونق لاتے ہیں۔ یہ سمندری پکوان نہ صرف لذیذ ہوتے ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بہت مفید سمجھے جاتے ہیں، خاص کر جب ان میں تازہ سبزیاں اور زیتون کا تیل استعمال کیا جائے۔ ان کی تیاری میں بہت مہارت اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ کویتی شیف اور گھر کی خواتین بخوبی جانتی ہیں۔

روایتی مشروبات: روح کو تازگی بخشنے والے

Advertisement

لبن اور قرقادیر: گرمی کا بہترین علاج

عربی قہوہ: میزبانی کا لازمی جزو

쿠웨이트 명절 음식 - **Sweet Delights: Luqaimat and Balaleet Dessert Spread**
    A high-definition close-up shot of an i...
کھانے کے ساتھ ساتھ مشروبات کا بھی کویتی ثقافت میں ایک اہم مقام ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ کویت کی شدید گرمی میں لبن (جو کہ دہی سے بنی ایک ٹھنڈی لسی ہوتی ہے) اور قرقادیر (ایک کھٹا میٹھا لال شربت) سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ یہ دونوں مشروبات نہ صرف پیاس بجھاتے ہیں بلکہ جسم کو تروتازہ بھی رکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں دوپہر کے وقت بہت تھکا ہوا تھا اور ایک کویتی دوست نے مجھے ٹھنڈا لبن پیش کیا، اس ایک گلاس نے میری تمام تھکن دور کر دی۔ اس کے علاوہ، عربی قہوہ، جو کہ ایک خاص انداز میں بنایا جاتا ہے، کویت کی میزبانی کا لازمی جزو ہے۔ ہر گھر میں اور ہر دفتر میں آپ کو قہوہ ضرور پیش کیا جائے گا۔ یہ صرف ایک مشروب نہیں بلکہ مہمان نوازی کی علامت ہے۔ اس کی خوشبو اور اس کا کڑوا ذائقہ، جو اکثر کھجور کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، ایک خاص لطف دیتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ مشروبات نہ صرف جسم کو توانائی دیتے ہیں بلکہ یہ سماجی رابطوں اور مہمان نوازی کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ یہ ثقافت کا ایک ایسا حصہ ہے جسے کویتی لوگ بہت فخر سے پیش کرتے ہیں۔

کویتی دسترخوان کے لوازمات: ذائقہ اور رنگ کا امتزاج

خوبز اور مرق: سادہ مگر لذیذ ساتھی

اچار اور چٹنیاں: کھانوں کو مزیدار بنانے والے

کویتی کھانے صرف بڑے پکوانوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ پیش کیے جانے والے لوازمات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ روایتی خوبز (تازہ پکی ہوئی روٹی) اور مختلف اقسام کی مرق (شوربہ) ہر دسترخوان کی زینت ہوتے ہیں۔ یہ سادہ لگتے ہیں لیکن ان کے بغیر کویتی کھانے ادھورے ہیں۔ خوبز تازہ اور گرم گرم کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے ایک کویتی گھرانے میں مرق لحم (گوشت کا شوربہ) کو خوبز کے ساتھ کھایا تھا، اس کی سادگی اور ذائقہ دونوں ہی متاثر کن تھے۔ اس کے علاوہ، مختلف قسم کے اچار اور چٹنیاں بھی کھانے کے ذائقے کو بڑھاتی ہیں۔ یہ تیکھے اور کھٹے لوازمات ہر کھانے کے ساتھ ایک نیا لطف پیدا کرتے ہیں۔ ان میں اکثر آم، لیموں یا دیگر سبزیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ لوازمات صرف ذائقہ نہیں بڑھاتے بلکہ کویتی کھانے کی ثقافت کو مزید رنگین بناتے ہیں۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ کویت میں ہر گھر کی اپنی ایک منفرد اچار یا چٹنی کی ترکیب ہوتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔

صحت اور ذائقہ کا توازن: جدید دور کے کویتی پکوان

نئے رجحانات اور روایتی اقدار

بچوں کے لیے خاص پکوان اور صحت کا خیال

آج کے دور میں جہاں صحت کا خیال رکھنا ہر ایک کے لیے اہم ہے، کویتی کھانوں میں بھی یہ رجحان نظر آتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ کویتی لوگ اپنے روایتی ذائقوں کو برقرار رکھتے ہوئے صحت بخش انتخاب کی طرف بھی مائل ہو رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ حال ہی میں میں نے ایک کویتی خاندان کے ہاں ایک ایسی دعوت میں شرکت کی جہاں روایتی مچبوس کے ساتھ ساتھ سلاد اور ابلی ہوئی سبزیوں کو بھی اہمیت دی گئی تھی۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے کہ لوگ اپنے کھانوں میں توازن پیدا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر بچوں کے لیے ایسے پکوان تیار کیے جاتے ہیں جو نہ صرف لذیذ ہوں بلکہ ان کی صحت کے لیے بھی مفید ہوں۔ والدین اب اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ بچے جنک فوڈ کی بجائے روایتی اور گھر کے بنے صحت بخش کھانے کھائیں۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ کویت میں اب ایسے ریسٹورنٹس بھی کھل گئے ہیں جو روایتی کھانوں کو صحت مند انداز میں پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک مثبت قدم ہے جو ثقافت اور صحت دونوں کو یکجا کرتا ہے۔ یہ تبدیلیاں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ کویتی کھانے کی ثقافت وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاء پذیر ہے اور نئے رجحانات کو بھی قبول کرتی ہے۔

کھانے کا نام اہم اجزاء خاص موقع ذائقہ کی خصوصیت
مچبوس چاول، گوشت/مرغی، مصالحے عید، دعوتیں خوشبودار، بھرپور، ذائقہ دار
لقیمات آٹا، خمیر، شربت رمضان، عید میٹھا، کرکرے
جیریش گندم، مرغی، مصالحے خاص تقریبات نرم، مصالحہ دار
بلالیط سویاں، انڈہ، الائچی ناشتہ، میٹھا میٹھا، خوشبودار
هامور مچھلی، لیموں، مصالحے سمندری دعوتیں تازہ، لذیذ
Advertisement

글을 마치며

کویت کا دسترخوان واقعی ایک ایسا خزانہ ہے جو نہ صرف پیٹ بھرتا ہے بلکہ روح کو بھی سیراب کرتا ہے۔ میرے اپنے تجربے میں، یہاں کے کھانے صرف اجزاء کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ یہ روایت، مہمان نوازی اور اجتماعی محبت کا اظہار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میری یہ گفتگو آپ کو کویت کے لذیذ کھانوں کی دنیا میں ایک جھلک دکھا سکی ہوگی۔ جب آپ خود ان ذائقوں کا تجربہ کریں گے تو آپ کو احساس ہوگا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ یہ وہ پکوان ہیں جو کہانیوں، یادوں اور رشتوں کو زندہ رکھتے ہیں۔

알아두면 쓸모 있는 정보

1. کویتی کھانوں کا بہترین تجربہ کرنے کے لیے، قومی تعطیلات جیسے کہ 25 اور 26 فروری کے دوران کویت کا دورہ کریں، کیونکہ اس وقت خاص پکوان اور تقریبات عروج پر ہوتی ہیں۔ آپ کو اصلی ذائقوں کا لطف اٹھانے کا موقع ملے گا۔

2. مقامی کھانوں کو آزمانے میں بالکل بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں، خاص طور پر سڑک کے کناروں پر ملنے والے چھوٹے eateries (مطاعم) پر۔ وہاں آپ کو مستند کویتی ذائقے ملیں گے جو بڑے ریستورانوں میں کم ہی میسر آتے ہیں۔ مقامی لوگوں سے پوچھیں، وہ بہترین جگہوں کا پتہ بتائیں گے۔

3. روایتی کویتی ریستوران اور کھانے کے اسٹالز اکثر ‘سووق’ (Souq) یا پرانے بازاروں کے آس پاس پائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر ‘مبارکیہ سووق’ میں آپ کو کئی روایتی پکوان چکھنے کا موقع ملے گا۔ یہ جگہ نہ صرف کھانوں بلکہ ثقافت کا بھی مرکز ہے۔

4. اگر آپ کو کسی کویتی گھر میں کھانے کی دعوت ملتی ہے، تو مہمان نوازی کو قبول کریں اور ہو سکتا ہے کہ کچھ پکوان ہاتھ سے کھانے کا رواج ہو، خاص طور پر جب سب اکٹھے ایک ہی بڑے تھال سے کھا رہے ہوں۔ یہ پیار اور قربت کی علامت ہے۔

5. عربی قہوہ اور کھجور کویتی مہمان نوازی کا لازمی حصہ ہیں۔ جب بھی آپ کسی کویتی گھر یا دفتر میں جائیں تو اسے قبول کرنا احترام کی علامت ہے۔ یہ صرف ایک مشروب نہیں بلکہ خوش آمدید کہنے کا ایک طریقہ ہے۔

Advertisement

중요 사항 정리

کویت کے پکوان صرف ایک ذائقے کا سفر نہیں بلکہ ایک بھرپور ثقافتی تجربہ ہیں۔ ان کھانوں میں نہ صرف روایتی ذائقے شامل ہیں بلکہ جدید صحت کے رجحانات کا بھی خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے۔ یہاں کے کھانے، میزبانی اور مہمان نوازی کی روح کو ظاہر کرتے ہیں، اور یہ اس خطے کی تاریخ اور ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ میرا اپنا ماننا ہے کہ کویت کا دسترخوان ایک ایسی دنیا ہے جسے ہر ذائقے کے متلاشی کو ضرور دریافت کرنا چاہیے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: کویت میں تہواروں پر سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے روایتی کھانے کون سے ہیں اور ان میں کیا خاص بات ہے؟

ج: مجھے اپنی آنکھوں دیکھا حال بتاتا ہوں، کویت میں تہواروں پر سب سے زیادہ جو کھانے پسند کیے جاتے ہیں وہ ہیں “مچبوس” اور “حریس”۔
مچبوس تو سمجھ لیں کہ کویت کی پہچان ہے۔ یہ ایک ایسی خوشبودار چاول کی ڈش ہے جو مرغی، بکرے یا مچھلی کے ساتھ بنائی جاتی ہے۔ اس میں زعفران، دار چینی، الائچی اور خشک لیموں جیسے مصالحے ڈالے جاتے ہیں، جس سے اس کا ذائقہ ہی لاجواب ہو جاتا ہے۔ چاول اور گوشت کو ایک ہی شوربے میں پکایا جاتا ہے تاکہ ہر دانہ مصالحوں کے ذائقے میں رچ بس جائے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے اس کو شادیوں اور عید کی تقریبات میں میز کی شان بنایا جاتا ہے۔
پھر آتا ہے حریس!
یہ گندم اور گوشت کا ایک دلیا نما کھانا ہے جو آہستہ آہستہ پکایا جاتا ہے جب تک کہ یہ بالکل نرم اور ملائم نہ ہو جائے۔ مجھے یاد ہے، رمضان میں افطار کے وقت یہ بہت پسند کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ہلکا پھلکا لیکن بھرپور ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ پرانے وقتوں میں مٹی کے برتنوں میں ساری رات پکتا تھا اور اسے پڑوسیوں اور غریبوں میں بانٹ کر برکت حاصل کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ، “قوزی” بھی بہت خاص ہے، یہ ثابت بکرے کا گوشت ہوتا ہے جسے چاول، میوہ جات اور مصالحوں سے بھر کر آہستہ آہستہ بھونا جاتا ہے۔ عید پر یا بڑی تقریبات میں یہ میز کا مرکزی پکوان ہوتا ہے اور اس کی تیاری میں اگرچہ محنت زیادہ لگتی ہے، لیکن ذائقہ بھی ناقابل فراموش ہوتا ہے۔ اور ہاں، میٹھے میں “گرس عقیلی” (زعفران اور گلاب کے پانی والا کیک) اور “بلالیت” (میٹھی سویاں جس پر آملیٹ ہوتا ہے) بھی بہت شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ یہ پکوان کویت کی مہمان نوازی اور روایات کا بہترین نمونہ ہیں۔

س: کویتی تہواری کھانوں کی ثقافتی اہمیت کیا ہے؟ کیا یہ صرف کھانا ہے یا کچھ اور بھی؟

ج: سچ کہوں تو کویتی تہواری کھانے صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں ہوتے، یہ کویت کی تاریخ، مہمان نوازی اور قومی فخر کا ایک زندہ ثبوت ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں کئی بار دیکھا ہے کہ جب کوئی دعوت ہوتی ہے، تو ہر پکوان کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہوتی ہے جو نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔ یہ ساحل کی زندگی، صحرا کی سادگی اور مختلف ثقافتوں کے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
جیسے مچبوس کو ہی لے لیں، یہ اتحاد اور جشن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں موتی چننے والے مچیرے سمندر میں لمبا وقت گزارنے کے بعد اجتماعی طور پر بڑے کھانے بناتے تھے۔ اسی طرح حریس، جو صبر اور سخاوت کا درس دیتا ہے، رمضان میں اسے بانٹنا ایک بہت بڑی نیکی سمجھی جاتی ہے۔ جبوتی نامی ایک اور کھانا بھی تہواروں پر بنتا ہے، یہ بھرے ہوئے پکوڑے ہوتے ہیں جو شوربے میں پکائے جاتے ہیں۔
یہ کھانے صرف ذائقے دار نہیں ہوتے، بلکہ یہ خاندانی رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں، دوستوں اور عزیزوں کو ایک ساتھ بٹھاتے ہیں، اور نئی نسل کو اپنی ثقافت سے جوڑے رکھتے ہیں۔ کویت میں کھانے کی میز پر جو مہمان نوازی اور گرمجوشی نظر آتی ہے، وہ کہیں اور کم ہی ملتی ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ایک بار میں ایک کویتی گھرانے میں تھا اور انہوں نے مجھے اتنی محبت سے کھلے دل سے دعوت دی کہ میں آج تک وہ لمحہ بھول نہیں پایا۔ ہر نوالے کے ساتھ آپ کو ایک قسم کی اپنائیت اور محبت کا احساس ہوتا ہے۔

س: کیا کویت میں روایتی تہواری کھانوں پر نئے رجحانات اور جدید طرز زندگی کا کوئی اثر پڑ رہا ہے؟

ج: یہ سوال بہت اچھا ہے اور میں نے خود اس پر کافی غور کیا ہے۔ آج کل کی دنیا میں ہر جگہ جدت آ رہی ہے، اور کویت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ لیکن میں نے جو دیکھا ہے، وہ یہ کہ کویت میں لوگ اپنی روایات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ آپ کو کویت سٹی میں مغربی فاسٹ فوڈ ریستوراں بہت ملیں گے اور نئے انداز کے کھانے بھی مقبول ہو رہے ہیں، لیکن جب بات تہواروں اور خاص مواقع کی آتی ہے، تو روایتی کھانوں کو آج بھی ترجیح دی جاتی ہے۔
ایک طرف جہاں کچھ لوگ اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے ان روایتی کھانوں کو بنانے کے لیے تیار شدہ مصالحے یا سہولت سے دستیاب اجزاء استعمال کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف آج بھی بہت سے گھرانے ایسے ہیں جہاں پرانی ترکیبوں اور طریقوں کو پوری طرح اپنایا جاتا ہے۔ خاص طور پر گھر کی خواتین کا کچن میں ان روایتی کھانوں کو بنانے میں جو کردار ہے، وہ واقعی قابل ستائش ہے۔
کچھ ریستوراں بھی ہیں جو ان روایتی کھانوں کو جدید انداز میں پیش کرتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ اپنی اصلیت اور ذائقے کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ تہواری کھانے کویتی ثقافت کا ایک بہت اہم حصہ ہیں اور ان کی قدر و منزلت ہمیشہ رہے گی۔ لوگ آج بھی ان کھانوں میں اپنے آباؤ اجداد کی خوشبو اور تاریخ محسوس کرتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ جدیدیت کے باوجود اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ بچے بھی ان کھانوں کو بہت شوق سے کھاتے ہیں اور یوں یہ روایت زندہ رہتی ہے۔